سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 364
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 332 یوکے کا جلسہ اس لئے کیا کہ یو کے میں احساس ختم ہو جائے کہ آپس میں رابطے ختم ہوئے تھے، ہم نے ملنا جلنا ہے، اکٹھے نمازیں بھی پڑھنی ہیں اور مسجدوں میں بھی آنا ہے۔ مسجدیں بھی کھول دی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ نمازیں پڑھتے جہاں تین فٹ کا فاصلہ تھا وہاں ایک فٹ کا رکھ لیا ہے، چھ انچ کا رکھ لیا ہے یا بعض جگہ نہیں بھی رکھا۔ ابھی میں امریکہ کا دورہ کر کے آیا ہوں۔ وہاں لوگ ماسک پہنتے تھے لیکن مسجد میں سارے آتے تھے۔ صفیں بنا کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور رابطے پورے رہے۔ تو یہ نمونے میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ اب ان نمونوں کو دیکھ کے اگر آپ لوگوں کو ہوش نہیں آنی اور نہیں کھلنا تو پھر اب میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اسی لئے میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ نمازوں کی طرف توجہ کرو۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اگلے سال یوکے کا جلسہ ہو گا تو انٹر نیشنل جلسہ ہو گا۔ پہلے جس طرح اجازت ملتی تھی اور کھل کے مل جائے گی تو مزید بہتری ہو جائے گی۔ آپ نے جو لوگوں کو دو اڑھائی سال میں گھروں میں نمازیں پڑھنے کی عادت ڈال دی ہے اور کہہ دیا کہ گھر میں نماز پڑھ کے بڑا مزہ آیا، ہماری بڑی اصلاح ہو گئی، ہمارے بچوں کی اصلاح ہو گئی۔ تو اب اس کو وسیع کریں۔ ان بچوں کی اصلاح کو مسجد میں لے کے آئیں اور ان تعلقات کو اور رابطوں کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں اور بچوں کو احساس دلائیں کہ جس طرح گھر میں تمہیں نمازیں پڑھنے کا لطف آتا تھا اب مسجد میں بھی آئے گا۔ مسجد میں بھی آیا کرو۔ آپ کے سامنے نمونے تو پیش ہو گئے۔ دو موقعے آگئے۔ یوکے کا جلسہ آگیا۔ میں اس میں شامل ہوا۔ لوگ قریب ہو کے بیٹھے۔ امریکہ کا دورہ ہوا تو وہاں سارے لوگوں نے دیکھا۔ سب قریب ہو کے بیٹھے۔ انشاء اللہ اور اگلے فنکشن ہوں گے تو آپ کے سامنے مثالیں آجائیں گی۔ جس نے اصلاح کرنی ہوتی ہے وہ تو ہلکے سے اشارے سے بھی اصلاح کر لیتا ہے اور جس نے نہیں کرنی اس نے نہیں کرنی۔ پھر آپ لوگ حجتیں تو کرتے رہیں گے۔