سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 35
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 3 خدمت دین کو اک فضل الہی سمجھیں بعض لوگ اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمیں جماعت میں اتنے عہدوں پر کام کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ بے شک یہ فقرہ اُن کے منہ سے نکلتا ہے کہ کام کرنے کی توفیق مل رہی ہے لیکن اس کام کی توفیق کا حق تب ادا ہو گا جب ذہن کے کسی گوشے میں بھی عہدہ کا تصور پیدا نہ ہو بلکہ خدمت دین کا تصور پیدا ہو ۔ خدمت دین کو اک فضل الہی سمجھیں۔ یہ خیال دل میں رہے۔ اپنی انا، فخر اور رعونت اور اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھنے کا خیال بھی دل میں پیدانہ ہو۔ جو لوگ اس سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور عاجزی کو ہر وقت اپنے سامنے رکھتے ہیں ، اُن کے کاموں میں اللہ تعالیٰ پھر بے انتہا برکت بھی ڈالتا ہے۔ اُن کے ساتھ کام کرنے والے بھی بھر پور طریق سے اُن کے مدد گار بن کر جماعتی خدمات سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور افرادِ جماعت بھی اُن کی ہر بات کو دل کی خوشی سے قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارے تمام عہدیدار یا خدمت سر انجام دینے والے بھی اپنے آپ میں یہ عاجزی، انکساری، اخلاص، محنت اور دعا کی حالت پیدا کرنے والے ہوں اور پہلے سے بڑھ کر پیدا کرنے والے ہوں اور جب یہ ہو گا تو تبھی وہ یقیناً خلیفہ وقت کے بھی سلطان نصیر بننے والے ہوں گے اور افرادِ جماعت بھی وفا کے ساتھ سلسلہ کے کاموں کو ہر دوسرے کام پر مقدم کرنے والے ہوں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جانے والے ہوں۔“ 66 ( خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جنوری 2014ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 24 جنوری 2014ء صفحہ 5-6)