سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 348

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 316 کے لئے، مکان خریدنے کے لئے یا کسی اور دنیاوی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بہت سے لوگ اپنے ٹیکس بھی غلط طریقے سے بچاتے ہیں اور دوسری قسم کے دھو کے دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں حتی کہ بعض احمدی بھی یہ کام کرتے ہیں اور پھر دنیاوی معاملات میں ہی نہیں بلکہ چندوں کی ادائیگی میں بھی اپنی آمد غلط بتا دیتے ہیں حالانکہ چندوں کے بارے میں تو ان کے لئے واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر شرح سے چندہ نہیں دے سکتے تو چھوٹ لے لیں۔ کوئی مجبوری نہیں ہے ایسی کہ زبر دستی چندہ لیا جائے گا اور کہہ دیں کہ اس سے زیادہ میں اپنے حالات کی وجہ سے چندہ نہیں دے سکتا لیکن غلط بیانی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر تقویٰ ہے تو اللہ تعالیٰ خود انتظام کر دے گا یا تھوڑے میں ایسی برکت عطا فرما دیتا ہے کہ غیر محسوس طریقے پر اخراجات پورے ہونے کے سامان ہوتے ہیں اور یہ صرف منہ سے کہنے کی بات نہیں ہے بلکہ بے شمار احمدی ایسے ہیں جو مجھے یہ لکھتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اللہ تعالیٰ نے غیر متوقع طور پر ہمارے لئے ایسے سامان کر دیئے کہ ہمارے اخراجات پورے ہو گئے ، ہماری مالی ضرورت پوری ہو گئی۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غلط بیانی کیے بغیر کام نہیں چل سکتا بے شمار ایسے واقعات جیسا کہ میں نے کہا میرے پاس موجود ہیں۔ اس وقت اتنا وقت نہیں ہے کہ میں وہ یہاں پیش کروں۔ وقتاً فوقتاً بیان کرتا رہتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی وضاحت میں خود اس کی مثال دی ہے کہ : بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غلط بیانی کیے بغیر کام نہیں چل سکتا اس لئے جھوٹ بولتے ہیں اور پھر ڈھٹائی سے مجبوری کا دوسروں کے سامنے اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ ہم نے اس لئے جھوٹ بولا تھا۔ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 12 ایڈیشن 1984ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: دو یہ امر ہر گز سچ نہیں۔“ یہ امر ہر گز سچ نہیں۔ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ