سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 347

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 315 حکموں پر عمل کرو تب پتہ لگے گا کہ نیکی میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ جب ایک لائحہ عمل ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں سے ایک نشان یہ بھی رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے۔“ 66 پھر آپ نے فرمایا کہ متقی کی علامت کیا ہے۔ بہت ساری علامتیں ہیں پھر ایک علامت کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” جیسے کہ فرمایا وَ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) یعنی اور جو اللہ سے ڈرے اس کے لئے وہ نجات کی کوئی نہ کوئی راہ بنا دیتا ہے اور وہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ آپ فرماتے ہیں: ”جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں ۔ یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے۔“ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا 66 متقی کی علامتوں میں سے ایک نشانی آپ نے علامت یہ بھی بتائی ہے کہ : ” اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا ۔ “ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 12 ایڈیشن 1984ء) پس بڑے سوچنے کی بات ہے، غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں لوگ اس بڑی عمر کو جب پہنچتے ہیں جب ان کے بچے بھی بڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی ضروریات کی انہیں زیادہ فکر شروع ہو جاتی ہے، ان کی تعلیم اور متفرق اخراجات کے لئے زیادہ سوچتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر ایسی ہے جب یہ سوچیں زیادہ شروع ہو جاتی ہیں اور پھر بعض لوگ جو دنیا میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں یا جن کو خدا تعالیٰ پر تو کل کم ہوتا ہے وہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مختلف حیلے اور طریقے تلاش کرتے ہیں چاہے جائز ہوں یا نا جائز ہوں جو بسا اوقات ناجائز بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً یہاں ہم عام دیکھتے ہیں کہ اپنے اخراجات کے لئے، بچوں کے اخراجات