سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 349

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 317 تعالیٰ متقی کے پریشانی سے نکلنے کے سامان عطا فرمانے کا وعدہ کرے اور دوسری طرف بعض لوگوں کو کہہ دے کہ تم غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لو اور خود ہی اس مشکل سے نکل جاؤ۔ یہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں ہے۔ جس خدا پر ہم یقین رکھتے ہیں ، ہم ایمان رکھتے ہیں اس کی تو یہ شان نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے وہ بڑا طاقت والا ہے۔ جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ( الطلاق : 4 ) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 12 ایڈیشن 1984ء) وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ - اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔ پس اللہ تع تعالیٰ پر تو کل ضروری ہے اور یہ تو کل بغیر تقویٰ کے پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ زبانی جمع خرچ نہیں ہے کہ منہ سے کہہ دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں بلکہ تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق اعلیٰ سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی ضرورت ہے۔ پس اگر ہم اپنی حالتوں میں حقیقت میں ایسی تبدیلی پیدا کر لیں ، جب دین دنیا پر مقدم ہو جائے تو یہی حقیقی تقویٰ ہے اور یہی وہ مقام ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ جماعتی اور دین کے کاموں کو ترجیح دینے کی برکت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے۔ ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لئے تھیں اور دنیاوی امور حوالہ بخدا تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ “ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 12 ایڈیشن 1984ء) اللہ تعالیٰ متقی کے راستے کی تمام دنیاوی روکیں دُور فرما دیتا ہے جو اس کے دین کے کام میں حارج ہوں۔ پس اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نمازوں کی وقت پر ادائیگی ہم کر