سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 346
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 314 اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے۔ وہ غنی ہے وہ پر واہ نہیں کرتا۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 11 ایڈیشن 1984ء) ہم حقیقی انصار اس وقت بن سکتے ہیں جب عمدہ بیج بنیں پس ہم حقیقی انصار اس وقت بن سکتے ہیں جب عمدہ بیج بنیں اور عمدہ بیچ بننے کے لئے اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر چلنا اور زمانے کے امام اور مامور کی کامل پیروی اور اطاعت کرنا ضروری ہے اور جب یہ ہو گا تو پھر ہم اس بیچ کے وہ پھل دار درخت ہوں گے جو دنیا کو نیکیوں کے پھل کھلانے والے ہوں گے ۔ ہمارے قول و فعل کا ایک ہونا جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہو گا وہاں ہماری نسل کی اصلاح کا بھی ذریعہ ہو گا اور ہمیں یہ تسلی ہو گی کہ ہم اپنی نسلوں میں بھی تقویٰ اور نیکی کی جڑ لگا کر جا رہے ہیں۔ وہ پیوند لگا کر جا رہے ہیں جس سے اگلی نسل بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ جڑ کر وہ پھل دار درخت بنیں گے جن پر نیکیوں کے پھل لگتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کو بھی خدائے واحد کی طرف لانے والے بنیں گے تاکہ مامور زمانہ کے حقیقی انصار بن سکیں۔ پس اس مضمون کو جتنا کھولتے جائیں اتنا ہی ہمیں احساس ہوتا جائے گا کہ انصار اللہ کی کیا اہمیت ہے اور ہم نے اپنے عہد کو کس طرح نبھانا ہے۔ حضرت مسیح موعود اپنے ماننے والوں کے کیا معیار دیکھنا چاہتے تھے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو اپنی تقاریر اور مجالس میں اس شدت سے بیان فرمایا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے ماننے والوں کے کیا معیار دیکھنا چاہتے تھے اور یہی معیار ہیں جو جماعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ”ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔“ یعنی قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس کو دیکھو، اس کو غور سے پڑھو ، اس کو سمجھو ، اس کے