سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 345

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 313 ” ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تاوہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بعضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 10 ایڈیشن 1984ء) انصار اللہ کا اصل کام پس اگر ہمارا نعرہ نَحْنُ اَنْصَارُ الله کا ہے تو اپنے نفس کو پہلے پاک صاف کرنا ہو گا تا کہ پھر اس مسیح موعود کے مددگار بن کر دنیا کو برائیوں اور شرک سے پاک کریں اور خدائے واحد کے نور سے دلوں کو منور کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ لیکن اگر ہمارے اپنے ہی دل دنیا کی گندگیوں اور غلاظتوں اور لالچوں میں پڑے ہوئے ہیں تو پھر ہم دنیا کی کس طرح اصلاح کر سکتے ہیں۔ پس اب مامورِ زمانہ کے ساتھ جڑ کر انصار اللہ کا اصل کام یہ ہے کہ دنیا کو خدائے واحد کے آگے جھکانا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا۔ پس اس کے لئے خود ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہو گا کہ کس قسم کے انصار اللہ ہم ہیں۔ اپنے اندرونی جائزے لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدار درخت ہو جاوے۔“ ہے۔ فرمایا: پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے اور اس کی باطنی حالت کیسی اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔“ اس عمر کو پہنچ کے خاتمہ بالخیر کی بھی فکر ہوتی ہے۔ فرمایا اگر زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔ فرمایا کہ: