سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 344
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 312 اللہ تعالیٰ کو ہماری کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ سب طاقتوں کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ایک نظام قائم فرمایا اور یہ نظام بنا کر فرمایا کہ تم اس نظام کا حصہ بن جاؤ اور میرے دین کے مدد گار بن جاؤ تو میں تمہیں اس طرح سمجھوں گا جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار ہو لیکن یہ یاد رہے کہ میں یعنی اللہ تعالیٰ صرف انہیں دین کے مدد گار سمجھوں گا جو تقویٰ کو اختیار کرنے والے ہیں اور احسان کرنے والے ہیں۔ تقویٰ کیا ہے ؟ تقویٰ کیا ہے ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کا خوف ، اس کی خشیت دل میں ہو اور ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور اسی طرح محسن وہ ہیں جو نیک باتوں کا علم رکھنے والے اور نیکیاں کرنے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں اس وقت اپنا مددگار سمجھوں گا جب تم میں تقویٰ ہو گا اور تمہارا ہر عمل اور خیال نیکیوں پر منتج ہو اور پھر میں تمہارے کاموں میں برکت ڈالوں گا۔ میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔ تم دین کی خدمت کے لئے جو کام بھی کرو گے اس میں کامیابی بھی عطا کروں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ یہ دعویٰ کرے کہ میں انصار اللہ ہوں، اللہ تعالیٰ کا مددگار ہوں۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ایک کے بعد دوسر اسانس بھی نہیں لے سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کا مددگار قبول کرتا ہوں اور میری مدد تمہارے ساتھ ہو گی بشر طیکہ تم تقویٰ پر چلو اور نیکیاں بجالانے والے ہو۔ پھر ہمارے کاموں کے جو ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر کرتے ہیں ایسے بھر پور نتائج نکلیں گے کہ نظر آئے گا کہ واقعی یہ لوگ انصار اللہ ہیں اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی ان کے کاموں میں بے انتہا برکت عطا فرماتا ہے۔ پس یہ سوچ ہے جو ہم میں سے ہر ناصر کی ہونی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر ہماری بیعت کا مقصد ہی کوئی نہیں رہتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر یہ نصیحت فرمائی کہ :