سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 343

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 311 اپنے جائزے لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ہم نے اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا کی ہے اور دوسروں کو اس سے کیا فائدہ پہنچارہے ہیں۔ ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود عليه الصلوة والسلام نے فرمایا کہ: ”ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ ایک نمونہ بنانا چاہتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 9 ایڈیشن 1984ء) پس جماعت کا عقل و حکمت اور تجربے کے لحاظ سے جو بہتر حصہ کہلا سکتا ہے جیسا کہ میں نے کہا وہ آپ لوگ ہیں جو انصار کی عمر کے ہیں۔ پس عبادتوں کے معیار کے لحاظ سے بھی اور اعلیٰ اخلاق اور دوسری نیکیوں کے لحاظ سے بھی انصار اللہ ہی وہ تنظیم ہونی چاہیے جو نمونے قائم کرنے والی ہو۔ جب انسان کے دل میں تقویٰ ہو، تبھی انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب انسان کے دل میں تقویٰ ہو، تبھی انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے، تبھی انسان کی عبادتوں کے اور اعلیٰ اخلاق کے معیار قائم ہوتے ہیں، تبھی ایک انسان حقیقی انصار میں شمار ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس وجہ سے اپنے ماننے والوں کو بے شمار جگہ بڑے درد کے ساتھ تقویٰ پر چلنے کے بارے میں بار بار نصیحت فرماتے رہے کیونکہ تقویٰ ایک بنیادی چیز ہے۔ چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: بجز تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129)“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 10 ایڈیشن 1984ء) یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے ہیں۔ پس ہر ایک ہم میں سے جائزہ لے کہ کس حد تک ہم میں تقویٰ ہے اور ہمارے احسان کرنے کے کیا معیار ہیں۔ تبھی ہم حقیقی انصار کہلا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ محسنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پس جب ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم انصار اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے مدد گار ہیں، اس کے دین کے مدد گار ہیں تو پھر یہ خصوصیت بھی پیدا کرنی ہو گی کہ تقویٰ بھی ہو اور محسن بھی ہم ہوں۔