سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 342

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 310 ہے۔ پس اب جبکہ ٹی وی کے ذریعہ تمام دنیا رابطوں کے لحاظ سے ایک ہو گئی ہے، ہر احمدی ہر بات کا جو خلیفہ وقت کی طرف سے جماعت کی بہتری کے لئے کہی جارہی ہے اپنے آپ کو مخاطب سمجھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو ایک انقلاب ہے جو ہم اپنی حالتوں میں لا سکتے ہیں۔ انصار اللہ ہی وہ تنظیم ہونی چاہیے جو نمونے قائم کرنے والی ہو پس پہلی بات تو یہ ہے کہ جو باتیں میں نے لجنہ میں کی ہیں ان کا انصار اپنے آپ کو بھی مخاطب سمجھیں۔ اور جب مرد اور عورت ایک ہو کر نیکیوں کو اختیار کرنے اور بدیوں کو ترک عورت ایک ہو کر نیکیوں کو اختیار کرنے اور بدیوں کرنے کے لئے کوشش کریں گے تو پھر ایک انقلاب ہو گا جو ہم اپنے گھروں میں بھی لا سکیں گے ، اپنی حالتوں میں بھی لاسکیں گے ، اپنے بچوں میں بھی لا سکیں گے اور اپنے معاشرے میں بھی لا سکیں گے۔ پس انصار اللہ کی عمر کو پہنچے ہوئے مرد جو اپنی عمر کے لحاظ سے اپنی سوچ کی بلوغت کو بھی پہنچ چکے ہیں انہیں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر نیکی کی بات جو جماعت کے کسی بھی طبقے کو مخاطب کر کے کی جارہی ہے اسے ہم نے نہ صرف اپنے پر لاگو کرنا ہے بلکہ دوسروں کے سامنے نمونہ بن کر حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو دنیا کی اصلاح کے لئے اور اسلام کی حقیقی تعلیم کے پھیلانے کے لئے آئے تھے، جن کو ہم نے مانا، اس لئے کہ اپنی بھی اصلاح کریں اور دنیا کو بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کریں تو پھر اس کے لئے ہر نیکی کو اختیار کرنے اور ہر بدی کو بیزار ہو کر ترک کرنے کی ہمیں خاص کوشش کرنی ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو جو مختلف مواقع پر نصائح فرمائیں اس کے حوالے سے بھی چند باتیں آپ سے کرنا چاہوں گا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ انصار اللہ کی عمر کے لوگ اپنی عقل اور تجربے کے لحاظ سے انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں، پس یہ بات ان سے یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی دینی، روحانی اور اخلاقی حالتوں کے بھی اعلیٰ نمونے دکھائیں۔