سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 341

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 309 ہر احمدی خلیفہ وقت کی ہر بات کا اپنے آپ کو مخاطب سمجھے ا بھی کچھ دیر پہلے میں نے لجنہ سے خطاب کیا تھا اور انہیں بعض باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ یہ باتیں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کر کے یہ نیکیاں اپنانے اور ان کی طرف توجہ کرنے کا کہا ہے۔ ہاں میں نے بعض مثالیں عورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے ماحول کے مطابق دی ہیں لیکن اکثر مثالیں مردوں اور عورتوں دونوں پر لاگو ہوتی ہیں۔ مثلاً سچائی کے اعلیٰ معیار یا عبادتوں کی طرف توجہ ہے تو مردوں کو بھی یہی معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ جہاں اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بنیں وہاں اپنی اولاد کی تربیت کے لئے بھی نمونہ بن کر ان کی دنیا و عاقبت سنوارنے کا بھی ذریعہ بنیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ نصائح کا مخاطب اپنے آپ کو نہیں سمجھتے اور دوسرے کے بارے میں سمجھ کر پھر کہہ دیتے ہیں کہ دیکھا خلیفہ وقت نے فلاں جماعت کو یا جماعت کے فلاں طبقے کو کس طرح سختی سے کہا ہے۔ وہ لوگ پھر یہ بھی آگے سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ تو ہیں ہی ایسے ، ان کی اصلاح ہونی چاہیے تھی۔ اپنے گریبان میں یہ لوگ نہیں جھانکتے۔ حالانکہ چاہیے تو یہ کہ ہر ایک اپنے آپ کو اس کا مخاطب سمجھے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے ، اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا ہوں۔ اور یہ دیکھنا چاہیے کہ جو باتیں دوسروں کو کہی جارہی ہیں ، کسی بھی طبقے کو خلیفہ وقت مخاطب ہے اور وہ اسلامی تعلیم کے مطابق بعض امور کی طرف توجہ دلا رہا ہے تو ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم اس معیار پر پورا اتر رہے ہیں جو مختلف نیکیوں کے قائم کرنے اور انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے معیار ہیں۔ پس اگر یہ بات سمجھ آجائے کہ خلیفہ وقت کسی بھی ملک کے احمدیوں کو بعض امور کی طرف توجہ دلا رہا ہے یا جماعت کے کسی بھی طبقے کو مختلف نیکی کی باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہے تو ہم بھی بحیثیت احمدی اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم میں یہ نیکیاں موجود ہیں جن کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے یا ہم میں یہ کمزوریاں تو نہیں ہیں جن کے چھوڑنے کی طرف توجہ دلائی جارہی