سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 340

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 308 ہمیں اپنے ارد گرد مشاہدہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آج مسلمان اسلام پر کس طرح عمل پیرا ہیں۔ اس پر غور کرنالا محالہ سراسر مایوسی کے احساس کا باعث بنے گا۔ مسلمان صحیح راستہ سے بھٹک چکے ہیں۔ وہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے لئے اللہ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔ تاہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے اسلام کے ان بنیادی اور اہم اصولوں کو از سر نو زندہ کر دیا گیا ہے۔ لہذا یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم اس مقصد کو سمجھیں اور پھر اپنی صلاحیتوں کے مطابق اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ ہر ناصر کو چاہیے کہ وہ اپنے قول سے ہی نہیں بلکہ اپنے عمل کے ذریعے اور سچے جذبے کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلانا اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اُنہیں ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اُنہیں تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اُنہیں غریبوں کی امداد کے لئے خرچ کرنا چاہیے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اُنہیں چاہیے کہ وہ نیک نیتی اور خلوص نیت سے مسکینوں، یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خدمت کے لئے کوشش کریں اور انسانیت کی بہتری کے لئے ہمیشہ تہہ دل سے کوشاں رہیں۔ یہ کوشش نہ صرف آپ کے اپنے ایمان کو مضبوط کرے گی بلکہ آپ کو دوسرے مذاہب کے لوگوں تک پہنچنے کے قابل بنائے گی، جو اسلام کی خوبصورت تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ ایسے اعمال و افعال آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک حقیقی انصار بنائیں گے اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے اجتماع کو ہر لحاظ سے برکت عطا فرمائے تا کہ آپ اس کے مختلف پروگراموں اور سر گر میوں سے مستفید ہو سکیں۔ آمین“ پیغام کا اردو مفہوم بر موقع اجتماع مجلس انصار اللہ ہالینڈ 2022 ء الفضل انٹر نیشنل 6 دسمبر 2022ء صفحہ 21)