سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 334
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 302 پڑھتے ہوں گے ان کو دیکھادیکھی یا اگر پڑھتے ہیں لوگ تو پانچ نمازوں کی بجائے دو یا تین نمازیں پڑھ لیتے ہیں ان کے بچوں پہ بھی یہی اثر ہو گا۔ اب کسی نے اطفال میں سے سوال کیا کسی بچے سے۔ بچے ! دن میں کتنی نمازیں ہوتی ہیں اسلام میں ؟ اس نے کہا تین۔ اس نے کہا تمہیں کس نے بتایا؟ کہتا ہے کہ میں نے تو اپنے ابا کو اتنی ہی پڑھتے دیکھا ہے۔ یا مسجدوں میں نمازیں جمع ہو گئیں تو بچے کو خیال ہو گیا کہ شاید مسجدوں میں نمازیں موسم کے لحاظ سے جمع ہو جاتی ہیں اس لئے تین نمازیں ہی ہوں گی حالانکہ یہ تو انتہائی صورت میں نمازوں کا جمع ہونے کی جو موسمی حالات یا وقت کے حالات ہوں ان دنوں میں ہوتا ہے۔ جب کھلا موسم ہوتا ہے ان دنوں میں پانچ نمازیں ادا کرنی چاہئیں تاکہ بچوں کی بھی تربیت صحیح ہو۔ تو بات یہ ہے کہ جب بنیادی چیز نماز ہے اسی کی طرف توجہ نہیں تو قرآن کریم کی تلاوت تو پھر بعد میں آتی ہے۔ تو وہ آپ نے مسلسل توجہ دلانی ہے۔ توجہ دلانا ہی آپ کا کام ہے۔ کوشش سے آپ کو نتائج اچھے بہتر ملیں گے Consolidated ان کو کہنا تم لوگ قرآن کریم پڑھو گے تو تمہیں قرآنی احکام کا بھی پتہ لگے گا یہی میں بار بار اپنے خطبات میں تقریروں میں بھی کہتا رہتا ہوں کہ قرآن کریم پڑھو قرآنی احکام آپ کو پتہ لگیں، اپنی میٹنگوں میں بھی یہی بتاتا رہتا ہوں اگر وہ سنتے ہوں پروگرام کہ اسی سے تم لوگوں کو پھر پتہ لگے گا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیئے ہوئے ہیں۔ اگر وہی نہیں ہم پڑھ رہے ایک بات جو ہدایت نامہ ہمارے سامنے ہے اسی کو ہم پڑھ نہیں رہے تو ہمیں پتہ کیا لگے گا، ہمارے مقصد کیا ہیں ، ہمارے فرائض کیا ہیں، ہماری ڈیوٹیاں کیا ہیں۔ تو یہ توجہ دلانا مسلسل کام ہے ہمارا اس لئے سیکرٹری بنایا گیا ہے تعلیم القرآن۔ وہ آپ ا کرتے رہیں پیار سے سمجھاتے رہیں، توجہ دلاتے رہیں، بار بار کہتے رہیں اور یہی قرآن کریم کا حکم ہے۔ ذکر ۔ نصیحت کرو نصیحت کرتے چلے جاؤ۔ داروغہ تو ہمیں بنایا نہیں ہوا۔ اللہ میاں نے کہا ہے نصیحت کرو اور نصیحت کرنا ہی ہمارا فرض ہے۔ یہی ہمارا کام ہے۔ آپ نے تھکنا نہیں۔ یہ ارادہ کر لیں کہ آپ نے تھکنا نہیں۔ کسی سے مایوس نہیں ہونا۔ ہمارا یہی کام ہے مسلسل کوشش کوشش