سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 333
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 301 مجبوریوں کی وجہ سے چندہ نہ دے پانے والوں کیلئے ہدایت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری صاحب مال سے ایسے احباب کے بارہ میں جو کہتے ہیں کہ وہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے چندہ نہیں دے سکتے فرمایا کہ ٹھیک ہے ان کو ۔ ح سے چندہ توجہ ہی دلانا ہے اور اس کے علاوہ تو نہیں کر سکتے۔ ان سے کہیں دیکھو تمہاری مجبوریاں ہیں تم نہیں چندہ دے سکتے تو نہ دو لیکن کم از کم نظام جماعت کو بتا دو کہ میں اس شرح سے یا کم شرح دے سکتا ہوں۔ ان کو یہ کہیں اگر ٹوٹل معاف کرانا ہے تو بھی، اگر حالات ایسے ہیں تو معاف ہو جائے گا لیکن اگر کم شرح سے دینا ہے تو پھر بھی دینا چاہیے تو ایمانداری کا تقاضا تو یہی ہے کہ یہ بتایا جائے۔ آپ ان کو آہستہ آہستہ پیار سے سمجھاتے رہا کریں۔ سمجھانا ہی ہمارا کام ہے اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سیکرٹری صاحب مال نے بتایا کہ احباب جماعت ایسی درخواست لکھنے سے جھجکتے ہیں اور ان کو شاید شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ان سے کہیں مجھے براہ راست خط لکھ دیا کریں۔ وہ آپ کو نہ دیا کریں وہ مجھے براہ راست لکھا کریں۔ بنیادی چیز نماز ہے سیکرٹری صاحب تعلیم القرآن نے عرض کیا کہ احمدیوں کی اکثریت روزانہ تلاوت قرآن کریم کی عادی ہے لیکن بعض افراد ایسے ہیں جو تھوڑے سست ہیں تو ان کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت اور شوق کو کیسے مزید اجاگر کیا جا سکتا ہے تا کہ سو فیصد احمدی قرآن کریم کی تلاوت کے عادی خود بھی ہو جائیں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن کریم کی تلاوت کے عادی بنائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ آپ کے جو سیکرٹری صاحب تربیت ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے 62 فیصد لوگ جو ہیں وہ نماز پڑھتے ہیں۔ نماز جو ایک بنیادی رکن ہے وہ اس کی اگر ادائیگی نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے ان کے بچے بھی نہیں