سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 324
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 292 یہاں صرف یہی نہیں فرمایا کہ عہد کرو کہ نمازیں ادا کرو گے ، بلکہ پنجوقتہ نماز اور ان کی ادائیگی موافق حکم خدا اور رسول ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ صرف ہمارا اعتقاد ہمیں نہیں بچائے گا، نہ ہمارا اعتقاد انقلابی تبدیلیاں لائے گا بلکہ ہمارے عمل ہیں جو انقلاب لائیں گے انشاء اللہ ۔ پس خلافت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تا کہ وہ انقلاب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی اکثریت نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونا ہے، وہ جو دعاؤں کے ذریعے سے عمل میں آنا ہے ، وہ عمل میں آئے۔ تقویٰ میں: ایک احمدی نے اپنے عہد میں ، عہدِ بیعت میں اس بات کا اقرار کیا ہوا ہے کہ اس نے میں ترقی کرنی ہے، تمام اعلیٰ اخلاق اپنانے ہیں ، اس لئے آپ سب کو خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انصار اللہ ہیں۔ ایک ایسی عمر ہے جو نَحْنُ انصار اللہ کا اعلان کرتے ہیں۔ عہد بیعت کا خلاصہ عہد بیعت کا خلاصہ کیا ہے ؟ شرک سے اجتناب کرنا، جھوٹ سے بچنا، لڑائی جھگڑوں اور ظلم سے بچنا، خیانت سے بچنا، فساد اور بغاوت سے بچنا، نفسانی جوش کو دبانا، پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی کرنا، تہجد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینا، استغفار دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دینا، تسبیح و تحمید کرنا، تنگی اور آسائش ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے وفا کرنا، قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنا، تکبر نخوت سے پر ہیز کرنا، عاجزی اور خوش خلقی کا اظہار کرنا، ہمدری خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر پیدا کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن پر ڈالنا۔ یہ ہے خلاصہ شرائط بیعت کا اور یہ کم از کم معیار ہے جس کی ایک احمدی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توقع فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم آپ کی توقعات اور تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں اور ہماری