سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 323

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 291 کیا ہمارے عمل اور اعتقاد میں کوئی تضاد تو نہیں پیارے ممبر ان مجلس انصاراللہ جرمنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصاراللہ جرمنی کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت فرمائے اور اسے نیک نتائج سے نوازے۔ آمین مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ اُس نے اس زمانے میں جس شخص کو دنیا کی اعتقادی اور عملی اصلاح کے لئے بھیجا، ہم اُس کے ماننے والے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تو طبیعتوں میں ایک انقلاب پیدا کر کے چودہ سو سال کے عرصے میں جن اندھیروں نے دلوں پر قبضہ کر لیا تھا، اُنہیں روشنیوں میں بدلنا تھا۔ ' پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اُن معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ہمارے بڑوں نے کئے، چاہے وہ صحابہ تھے یا اُن کے بعد ہونے والے احمدی تھے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے عمل اور اعتقاد میں کوئی تضاد تو نہیں؟ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد اور نعرے صرف وقتی جذبات تو نہیں ؟ جن شرائط پر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے اُن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہم عملی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ نہیں؟ قرآن کریم میں نماز کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی اہمیت کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ شرائط بیعت کی تیسری شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ : بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول ادا کر تا رہے گا“۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564)