سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 315
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 283 وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں قائد صاحب مال سے گفتگو کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: چندہ کا جو بجٹ آپ بناتے ہیں اس پر آپ کو تسلی ہے کہ وہ بجٹ صحیح طرح بن رہا ہے جو مجالس کی طرف سے آرہا ہے ؟ قائد صاحب مال : حضور ! ہم مختلف اجلاسات میں کوشش کرتے رہتے ہیں اور سمجھاتے بھی رہتے ہیں۔ حضور : کوشش تو آپ کرتے رہتے ہیں۔ کیا آپ کی اپنی تسلی بھی ہے کہ جو اب تک بنا ہوا ہے وہ صحیح بناہوا ہے ؟ قائد صاحب مال : حضور ! خاکسار کو پوری طرح تسلی نہیں ہے۔ حضور : گنجائش ہے نا۔ اصل بات یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ رکھیں تو پھر ترقی (بھی) ہوتی ہے۔ اگر صرف خوش فہمی میں مبتلا ہو جائیں تو (پھر) ترقی نہیں ہوتی۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں اور اس کو بہتر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم نے اتنا کر لیا اور ہم نے اتنا کر لیا۔ اور اگر کسی نے اعتراض کر دیا تو اس پر غصے میں آگئے ۔ ہم نے ترقی کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنا ہے۔ اس لیے حقائق کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ تبھی ہم صحیح طور پر اپنا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کم از کم ہر ایک ناصر کو پتہ ہونا چاہیے ۔ وہ اپنی آمد کے مطابق لکھ دے کہ میں چندہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں اتنی (آمد) پر دوں گا۔ لیکن یہ کہہ دینا کہ میری آمد اتنی ہے وہ غلط ہے اس میں پھر برکت نہیں ہوتی۔ یہ تربیت کے لحاظ سے بتانا ضروری ہے ۔ اور انصار تو اس عمر کو پہنچے ہوئے ہیں کہ اب ان کی تربیت کون کرے گا؟ ہر ایک نے اپنی تربیت خود ہی کرنی ہے۔ یہ تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ چندہ کی شرح اتنی ہے اور میں اس حساب سے دوں گا۔ آپ کو یہ اجازت لے لینی چاہیے۔ ٹھیک ہے زبر دستی ہم نہیں کرتے۔ ٹیکس نہیں لگاتے۔ لیکن سچائی ضرور ہونی چاہیے۔