سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 311
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 279 ہوئے پھر اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعائیں مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا صحیح طریق اپنی عبادتوں کو اس کے حکم کے مطابق بجالانا ہے یعنی پانچ وقت کی نمازوں کی حفاظت اور ادائیگی، دلی سوز سے ادائیگی اور توجہ کے ساتھ ادا ئیگی۔ کمال ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا: دو سو تم نمازوں کو سنوارو اور خدا تعالیٰ کے احکام کو اس کے فرمودہ کے بموجب کرو۔ اس کی نواہی سے بچے رہو۔ اس کے ذکر اور یاد میں لگے رہو۔ دعا کا سلسلہ ہر وقت جاری رکھو۔ اپنی نماز میں جہاں جہاں رکوع و سجود میں دعا کا موقعہ ہے دعا کرو اور غفلت کی نماز کو ترک کر دو، رسمی نماز کچھ ثمرات مرتب نہیں لاتی۔“ رسمی نمازوں کو کوئی پھل نہیں لگتے صرف فرض پورا کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اور نہ وہ قبولیت کے لائق ہے۔ نماز وہی ہے کہ کھڑے ہونے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع خضوع اور حضور قلب سے ادا کی جاوے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ وزاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جاوے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح کمال ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو۔ “ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 236) ہماری کامیابی دعاؤں سے ہی ہوتی ہے یہ ہے نماز کی حقیقت۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہماری کامیابی دعاؤں سے ہی ہونی ہے۔ پس جب ہم اپنی عملی حالتوں کی تبدیلی کے ساتھ دعاؤں اور عبادات کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حقیقی انصار میں شمار ہو سکتے ہیں۔ تبھی ہم اپنی اگلی نسلوں کے ذہنوں میں سوال پیدا کرنے کی بجائے ان