سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 310
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 278 گی۔ ذاتی اغراض نہیں ہونی چاہئیں جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسان کو چاہیے کہ ساری کمندوں کو جلا دے اور صرف محبت الہی ہی کی کمند کو باقی رہنے دے۔ خدا نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں۔ آدم سے لے کر نوح وابراہیم اور موسیٰ و عیسی اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہم الصلوۃ والسلام تک کل انبیاء اسی نمونہ کی خاطر ہی تو اس نے بھیجے ہیں تا لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں۔ جس طرح وہ خدا تعالیٰ تک پہنچے اسی طرح اور بھی کوشش کریں۔ سچ ہے کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ یا درکھو کہ ایسانہ ہو کہ تم اپنے اعمال سے ساری جماعت کو بد نام کرو۔“ فرمایا کہ: 66 شیخ سعدی صاحب فرماتے ہیں۔ بد نام کنندہ نکونامے چند “ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 246) کہ ایک بڑا آدمی کئی نیک ناموں کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔ پس ہمیں بہت سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کاموں میں برکت اس وقت پڑے گی جب اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں انصار الله ، حقیقی انصار اللہ بننے کے لئے بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی محبت ہمیں اپنے دل میں پیدا کرنے کی بہت کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے عمل بھی اس وقت حقیقی عمل بنیں گے جب ہم خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے نیکیاں بجالانے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے کاموں میں برکت اس وقت پڑے گی جب اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عظیم کام میں معاون و مددگار تبھی بن سکیں گے جب ہم اپنے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق کرتے