سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 309

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 277 غرض تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔ “ یعنی اپنے عمل جو ہیں اس سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں، صرف باتوں سے نہیں کرتے۔ اور پھر ان کا شیوہ یہ ہوتا ہے۔ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یعنی صبر کے ساتھ وعظ و نصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔“ اور پھر صبر کے ساتھ وعظ و نصیحت کرتے جاتے ہیں۔ صرف باتوں کے ذریعہ سے تبلیغ نہیں کرنی بلکہ اپنے عمل سے تبلیغ کرنی ہے، اپنے عمل سے دوسروں کو قائل کرنا ہے اور پھر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہتے ہوئے ان کو نصیحت کرنا اور تبلیغ کرتے چلے جانا ہے۔ جلدی جھاگ منہ پر نہیں لاتے ۔ “ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 191-192) غصہ میں نہیں آ جاتے یہ لوگ اگر مخالفت ہو تو۔ اسلام ہی وہ حقیقی مذہب ہے جو دنیا کو راہ راست پر لا سکتا ہے پس تبلیغ کے لئے یہ دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں کہ اپنے عمل اور تعلیم میں مطابقت پیدا کرنا اور دوسرے صبر سے کام لیتے ہوئے مستقل مزاجی سے اور برداشت سے تبلیغ کرتے چلے جانا ہے۔ پس ہمیں اس حوالے سے سے بھی بھی اپنے جائزے لینے چاہئیں چاہئیں اور اور تبلیغ کے کے کام کو کو آگے بڑھانا چاہیے۔ یہاں تو مواقع ایسے ہیں کہ تبلیغ کے بہت سارے کام ہو سکتے ہیں۔ جہاں روکیں ہیں وہاں اگر روکیں ہمارے رستے میں حائل ہیں اور قانون اور حکومتیں اگر رستے میں حائل ہیں تو دوسری جگہ جہاں ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیوں نہ اٹھایا جائے۔ پس جو ان ملکوں میں رہ رہے ہیں، آزادانہ طور پر جن کو تبلیغ کے مواقع میسر ہیں ان کو چاہیے کہ پہلے سے بڑھ کر تبلیغ کے لئے میدان میں نکلیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ اسلام ہی وہ حقیقی مذہب ہے جو دنیا کو راہ راست پر لا سکتا ہے اور دنیا کو نجات دلا سکتا ہے۔ بہر حال یہ سب کام اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرتے ہوئے کریں گے تو برکت ہو