سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 308
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 276 ہدایتوں کے موافق کئے جاتے ہیں وہ ایک شجرِ طیب کی مثال جو قرآن شریف میں دی گئی ہے، بڑھتے ہیں اور پھل پھول لاتے ہیں۔“ پس یہ عمل ہونے چاہئیں ہمارے۔ قرآن کریم کے حکموں کی تلاش کریں، جو نواہی اور اوامر ہیں ان کو دیکھیں، جو نہ کرنے والی باتیں ہیں، ان سے رکیں جو کرنے والی باتیں ہیں ان کو اختیار کریں، اپنی حالتوں کو بہتر بنائیں تبھی ہم حقیقی بیعت کا حق ادا کر سکتے ہیں اور تبھی ہم حقیقی رنگ میں انصار اللہ بن کے یہ پیغام دنیا کو پہنچا سکتے ہیں اور دنیا کو سیدھے رستے پر چلا سکتے ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں: ” ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ ان میں پیدا ہو تا ہے۔“ (ملفوظات جلد 1 189-188صفحہ 66 جو یہ سب کام کرتے ہیں وہ پھر ایسے پھل پیدا کرتے ہیں جس میں ایک خاص قسم کی حلاوت پیدا ہو جاتی ہے۔ ذائقہ پیدا ہو جاتا ہے ، ایک عجیب مزہ بن جاتا ہے اس چیز کا۔ صرف باتوں کے ذریعہ سے تبلیغ نہیں کرنی بلکہ اپنے عمل سے تبلیغ کرنی ہے پھر عملی حالتوں کو قرآنی تعلیم کے مطابق ڈھالنے اور اپنے قول و فعل کو ایک کرنے کے بارے میں تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( العصر:3-4) کی تفسیر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: دو مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔“ باتیں سن سن کے ، نیکی کی باتیں سن کے مسلمان ہونے لگا۔ ایک روز اس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا تھا تو اس کا دل سخت ہو گیا اور وہ رک گیا۔“ اس نے کہا کہ باتیں تو بڑی اچھی کر رہا ہے، نیکی کی باتیں بتا رہا ہے ، شراب کے نقصان مجھے بتا رہا ہے لیکن ایک دن وہ مولوی خود بیٹھا شراب پی رہا ہے۔ اس نے کہا پھر ایسے مذہب سے بچ کے ہی رہنا چاہیے۔ فرمایا: