سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 307
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 275 ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔ اسی غرض کے لئے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشاء ہے۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 96-97) پس اس بات کے بعد ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ہماری حقیقت میں تطہیر ہو گئی ہے؟ کیا ہم نے اپنی زندگیوں کو اتنا پاک کر لیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے چاہتے ہیں یا اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں ؟ اگر نہیں تو اب ہم دوسروں کو حقیقی رنگ میں راستہ نہیں دکھا سکیں گے۔ پس ہمیں بڑے خوف سے بڑی دعاؤں اور استغفار کے ساتھ اپنے جائزے لیتے رہنے چاہئیں۔ قرآن کریم میں علمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ قرآن کریم میں علمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے آپ فرماتے ہیں: پھر یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ قرآنِ کریم میں علمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے چنانچہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ (الفاتحہ (6) میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صراط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ (7) میں فرمایا کہ جو نتائج اکمل اور اتم ہیں وہ حاصل ہو جائیں۔ جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے جب تک پورا نشو و نما حاصل نہ کرے اس کو پھل پھول نہیں لگ سکتے ۔ اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں وہ ہدایت مر دہ ہدایت ہے جس کے اندر کوئی نشوو نما کی قوت اور طاقت نہیں ہے۔ جیسے اگر کسی کو وید کی ہدایت پر پورا عمل کرنے سے کبھی یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمیشہ کی مکتی یا نجات حاصل کرلے گا اور کیڑے مکوڑے بننے کی حالت سے نکل کر دائمی سرور پالے گا تو اس ہدایت سے کیا حاصل۔ مگر قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اعمالِ صالحہ جو قرآنی