سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 304

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 272 ذاتی سے رنگین ہو کر کرو ، خلاصہ یہ ہے۔ اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : میں دوزخ اور بہشت پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ حق ہے اور ان کے عذاب اور اکرام اور لذائذ سب حق ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ انسان خدا کی عبادت دوزخ یا بہشت کے سہارے سے نہ کرے بلکہ محبت ذاتی کے طور پر کرے۔ دوزخ بہشت کا انکار میں کفر سمجھتا ہوں اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا حماقت ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے رنگین ہو کر کرے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے کیا اس امید پر کہ وہ اسے کھلائے گا۔ نہیں بلکہ وہ جانتی ہی نہیں کہ کیوں اس کی پرورش کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر بادشاہ اس کو حکم دیدے کہ تو اگر بچے کی پرورش نہ کرے گی اور اس سے یہ بچہ مر بھی جاوے تو تجھ کو کوئی سزا نہ دی جاوے گی بلکہ انعام ملے گا۔ تو وہ اس حکم سے خوش ہو گی یا بادشاہ کو گالیاں دے گی؟ یہ محبت ذاتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے نہ کہ کسی جزا سزا کے سہارے پر۔ محبت ذاتی میں اغراض فوت ہو جاتے ہیں۔“ دیتا ہے۔“ اگر محبت ذاتی ہو تو پھر کوئی غرض نہیں رہتی۔ 66 ” اور خدا تو وہ خدا ہے جو ایسار حیم وکریم ہے کہ جو اس کا انکار کرتے ہیں ان کو بھی رزق جب وہ دشمنوں کو محروم نہیں کرتا تو دوستوں کو کب ضائع کر سکتا ہے کیا سچ کہا ہے ۔ دوستان را کجا کنی محروم تو کہ بادشمناں نظر داری 66 دوستوں کو تو کب محروم کرے جبکہ تو تو دشمنوں کی بھی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔ ” جب وہ دشمنوں کو محروم نہیں کرتا تو دوستوں کو کب ضائع کر سکتا ہے۔“ فرمایا کہ: