سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 305
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم رو 273 حضرت داؤد کا قول ہے کہ میں جوان تھا اب بوڑھا ہو گیا ہوں مگر میں نے متقی کو کبھی ذلیل و خوار نہیں دیکھا۔“ پھر فرماتے ہیں کہ : دو ۔۔۔ اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہو گی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں۔ وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں۔ اس کی ہر حرکت و سکون اس کے درودیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔ میں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں، اسی غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے۔“ 66 فرمایا: یقیناً یا د رکھو کہ پوست کام نہیں آتا بلکہ مغز کی ضرورت ہے۔ لکھا ہے کہ ایک یہودی سے کسی مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔ کہا کہ میں تیرے قول کو تیرے فعل (کی وجہ سے ) نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔“ ایک یہودی سے کسی مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔ یہودی نے جواب دیا کہ میں تو تیرے قول کو ، تیری باتوں کو ، تیرے فعل کی وجہ سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ، تو مجھے کہہ رہا ہے مسلمان ہو جا۔ لیکن جو تیری باتیں ہیں وہ اور ہیں، تیرا عمل بالکل اور ہے اور مجھے تو اس چیز سے نفرت ہے، کس بات پر تم مجھے بلا رہے ہو ، کس بات کے لئے بلا رہے ہو کہ میں مسلمان ہو جاؤں، کیا تبلیغ مجھے کر رہے ہو ؟ کہنے لگا یہودی کہ ”میں نے اپنے بیٹے کا نام خالد رکھا تھا۔“ دو اب خالد کا مطلب ہے : ہمیشہ رہنے والا ۔ کہتا ہے حالانکہ شام تک میں اس کو قبر میں دفن کر آیا۔“ اس نام رکھنے کے باوجود وہ زندہ نہیں رہا، شام تک میں نے اس کو دفنا بھی دیا۔ تو ناموں سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تم نام کے مسلمان کہلاتے ہو ، نام کے انصار اللہ کہلاتے ہو تو اس سے تو کچھ نہیں بنے گا جب تک کہ قول و فعل ایک نہیں ہو جاتے۔