سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 303
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 271 کھانے کے لئے ہے؟ نہیں۔ فرمایا کہ: ”مگر اب کروڑوں مسلمان ہیں کہ انہوں نے عمدہ عمدہ کھانے کھانا، عمدہ عمدہ مکانات بنانا، اعلیٰ درجہ کے عہدوں پر ہونا ہی اسلام سمجھ رکھا ہے۔“ مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: 78) خدا کو تمہاری پر واہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ مانگو۔ یہ آیت بھی اصل میں پہلی آیت وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) ہی کی شرح ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ انسانی خلقت سے صرف عبادت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے۔ حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔“ نفس کے حق جائز ہیں ، ادا کرو، کرنے چاہئیں لیکن حد سے بڑھ کے نہیں۔ حقوق نفس بھی اس لئے جائز ہیں کہ تاوہ درماندہ ہو کر رہ ہی نہ جائے۔ تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں نہ اس لئے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 247-249) پس یہ ہے معیار جو ہم نے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کوشش کرنی چاہیے۔ اگر زندگی کے اس مقصد کو ہم سمجھ گئے تو ہم حقیقی انصار میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ یہی معیار حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نبی کے حقیقی مدد گار بن سکتے ہیں۔ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے رنگین ہو کر کرو پھر یہ بات بیان فرماتے ہوئے کہ عبادت کے معیار ایک حقیقی مومن کے کیا ہونے چاہئیں، عبادت کس طرح کی جائے ، آپ علیہ السلام نے ہمیں سمجھایا کہ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت