سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 302

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 270 دنیاوی چیزیں اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کئے جائیں باغوں کے پھل پھول کی حفاظت کرنا ہے۔ باغوں کی نوجوان کلیوں کو سنبھالنا ہے نہ کہ ان میں یہ احساس پیدا کرنا کہ ہمارے بڑے غلطی کر رہے ہیں۔ پس بہت سوچنے کا مقام ہے۔ ” خدا نے تو بھیجا تھا کہ عبادت کرے اور حق اللہ اور حق العباد کو بجالا وے مگر یہ آتے ہی بیویوں میں مشغول، بچوں میں محو اور اپنے لذائذ کا بندہ بن گیا اور اس اصل مقصد کو بالکل بھول ہی گیا۔ بتاؤ اس کا خدا کے سامنے کیا جواب ہو گا ؟“ فرمایا: ” دنیا کے یہ سامان اور یہ بیوی بچے اور کھانے پینے تو اللہ تعالیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ بان چند کوس تک ٹٹو سے کام لے کر جب سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے۔“ اس کے ٹانگے کا گھوڑا تھک گیا ہے۔ اسے کچھ نہاری اور پانی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ مالش کرتا ہے تا اس کی تھکان کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درماندہ ہو کر کہیں آدھ میں ہی نہ رہ جائے اس سہارے کے لئے اسے نہاری دیتا ہے۔ سویه دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھانے کی خورا کیں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں کہ تاوہ تھک کر اور درماندہ ہو کر بھوک سے پیاس سے مر نہ جاوے اور اس کے قومی کے تحلیل ہونے کی تلافی مافات ہوتی جاوے۔ پس یہ چیزیں اس حد تک جائز ہیں کہ انسان کو اس کی عبادت اور حق اللہ اور حق العباد کے پورا کرنے میں مدد دیں۔“ دنیاوی چیزیں اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کئے جائیں، بندوں کے حق ادا کئے جائیں ، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کیا جائے، اپنے مقصد پیدائش کو پہچانا جائے۔ دو ور نہ اس حد سے ، آگے نکل کر وہ حیوانوں کی طرح صرف پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد بنا کر مشرک بناتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے ۔ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد که زیستن از بهر خوردن است کہ کھانا تو جینے اور یاد خداوندی کے لئے ہے۔ تو صرف یہی سمجھتا ہے کہ زندگی محض