سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 301
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 269 کو بڑھا بھی سکتا ہے مگر ایک وہ ، وہ شخص جس کا عمر پانے سے مقصد صرف ورلی دنیا ہی کے لذائذ اور حظوظ ہیں، اس کی عمر کیا فائدہ بخش ہو سکتی ہے ؟ اس میں تو خدا کا حصہ کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنی عمر کا مقصد صرف عمدہ کھانے کھانے اور نیند بھر کے سونے اور بیوی بچوں اور عمدہ مکان کے یا گھوڑے وغیر ہ رکھنے یا عمدہ باغات یا فصل پر ہی ختم کرتا ہے۔ وہ تو صرف اپنے پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد ہے۔“ وہ انہی کی عبادت کرتا ہے ، اللہ کی عبادت تو نہیں کرتا۔ ” اس نے تو اپنا مقصود و مطلوب اور معبود صرف خواہشات نفسانی اور لذائذ حیوانی ہی کو بنایا ہوا ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان کے سلسلہ پیدائش کی علت غائی صرف اپنی عبادت رکھی ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:57) پس حصر کر دیا ہے کہ صرف صرف عبادت الہی مقصد ہونا چاہیے۔“ 66 محدود کر دیا ہے، انسان کو پابند کر دیا ہے کہ عبادت الہی تمہارا مقصد ہونا چاہیے۔ اور صرف اسی غرض کے لئے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے۔ بر خلاف اس کے اور ہی اور ارادے اور اور ہی اور خواہشات ہیں۔“ لیکن عموما کیا ہوتا ہے اس کے بالکل بر خلاف ہو رہا ہے اور مختلف ارادے ہیں اور مختلف خواہشات ہیں۔ انصار اللہ کا کام تو باغ کی نگہداشت کرنا ہے فرمایا: ”بھلا سوچو تو سہی کہ ایک شخص ایک شخص کو بھیجتا ہے کہ میرے باغ کی حفاظت کر۔ اس کی آبپاشی اور شاخ تراشی سے اسے عمدہ طور کا بنا اور عمدہ عمدہ پھول، بیل بوٹے لگا کہ وہ ہر ابھرا ہو جاوے۔ شاداب اور سر سبز ہو جاوے مگر بجائے اس کے وہ شخص آتے ہی جتنے عمدہ عمدہ پھل پھول اس میں لگے ہوئے تھے ان کو کاٹ کر ضائع کر دے یا اپنے ذاتی مفاد کے لئے فروخت کرلے اور ناجائز دست اندازی سے باغ کو ویران کر دے تو بتاؤ کہ وہ مالک جب آوے گا تو اس سے کیسا سلوک کرے گا؟ پس انصار اللہ کا کام تو باغ کی نگہداشت کرنا ہے۔