سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 300
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 268 خوشیوں اور لذتوں کو راحت سمجھتا ہے وہ تلخیوں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہیں۔ سچی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گویا زہر کا پیالہ پینا ہے۔“ بہت مشکل کام ہے۔ بہت محنت کرنی پڑتی ہے اس کے لئے۔ متقی کے لئے خدا تعالی ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے فرمایا کہ: متقی کے لئے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے لیکن حصولِ تقویٰ کے لئے نہیں چاہیے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔ تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے ملے گا۔ خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ تقویٰ اختیار کرو۔ جو چاہو گے وہ دے گا۔ جس قدر اولیاء اللہ اور اقطاب گزرے ہیں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا تقویٰ ہی سے حاصل کیا۔ اگر وہ تقویٰ اختیار نہ کرتے تو وہ بھی دنیا میں معمولی انسانوں کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے۔ دس بیس کی نوکری کر لیتے یا کوئی اور حرفہ یا پیشہ اختیار کر لیتے۔ اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ مگر آج جو عروج ان کو ملا اور جس قدر شہرت اور عزت انہوں نے پائی یہ سب تقویٰ ہی کی بدولت تھی۔ انہوں نے ایک موت اختیار کی اور زندگی اس کے بدلہ میں پائی۔“ (ملفوظات 107-106 جلد 5 صفحہ ایسے بنو کہ تا تم پر خدا تعالیٰ کی برکات اور اس کی رحمت کے آثار نازل ہوں انصار اللہ کی عمر تو ایسی عمر ہے کہ جس میں اگلی زندگی کا سفر زیادہ واضح نظر آتا ہے اور آنا چاہیے۔ جتنی عمر بڑھتی ہے موت اتنی ہی قریب ہوتی جاتی ہے۔ اس میں ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ پھر میں کہوں گا اس کا اندازہ ہم خود ہی سوچ کر لگا سکتے ہیں۔ پھر انسانی پیدائش کے مقصد کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایسے بنو کہ تا تم پر خدا تعالیٰ کی برکات اور اس کی رحمت کے آثار نازل ہوں۔ وہ عمروں