سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 299

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 267 اور جان و مال سے دست کش ہو جاتے تھے گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طرح پر ان کی گل امیدیں دنیا سے منقطع ہو جاتی تھیں۔ ہر قسم کی عزت و عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہو جاتے تھے۔ کس کو یہ خیال تھا کہ ہم بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہوں گے۔ یہ باتیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہو جاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت کو لذت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے یہاں تک کہ جان تک دینے کو آمادہ رہتے تھے۔ ان کی اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے لیکن یہ الگ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی عنایت کی اور ان کو نوازا اور ان کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا ہزار چند کر دیا۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 397-398) جو لوگ گ اپنے آپ کو انصار اللہ کہتے ہیں ان کا کیا معیار ہونا چاہیے یہ تو ایک احمدی کا معیار ہے جو بیعت کر کے سلسلہ میں شامل ہوتا ہے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے توقع رکھ رہے ہیں لیکن جو لوگ اپنے آپ کو انصار اللہ کہتے ہیں ان کا کیا معیار ہونا چاہیے۔ خود ہی ہمیں اپنے جائزے لینے ہوں گے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: لوگ حقیقت اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں۔“ پتہ ہی نہیں کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ دو اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے لیکن جو اس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خواہشوں اور لذتوں کو ہی جنت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے اور سعید آدمی خدا کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا فانی ہے اور سب مرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ سب دوست، آشنا، عزیز واقارب جدا ہو جاتے ہیں۔ اس وقت جس قدرنا جائز