سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 298

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 266 پس ہر ایک اپنے اندر کا جائزہ لے اور تلاش کرے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس معیار کو حاصل کرنے کے لئے اپنے اندرونے کو کھنگالنا ہو گا، اپنے اندر جھانکنا ہو گا تبھی ہمیں پتہ چلے گا کہ کس قسم کے احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری بیعت تو بیعت تو بہ ہی ہے اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض ارشادات سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن سے ہمیں ان معیاروں کا پتہ چلے جو ہم نے حاصل کرنے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں: ” اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں۔“ یعنی ان کی کوئی ذاتی غرضیں ہوتی ہیں۔ اگر اغراض پورے ہو گئے تو خیر ور نہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان۔ لیکن اگر اس کے مقابلہ میں صحابہ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو ان میں ایک بھی ایسا واقعہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔“ فرمایا کہ: سے ہماری بیعت تو بیعت تو بہ ہی ہے لیکن ان لوگوں کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی۔“ میری بیعت کی ہے تم نے تو یہ اس لئے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ ہم یہ لئے عہد کرتے ہیں کہ نیکیوں کو قائم کریں گے ، ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ کو دنیا میں ، پھیلائیں گے اور اپنی حالتوں کو بدلیں گے لیکن جو پرانے لوگ تھے ، صحابہ تھے ، انہوں نے جو بیعت کی تھی وہ زمانہ تو ایسا تھا جب ظلموں کی انتہا تھی اور جنگیں بھی ہو رہی تھیں، جنگیں ٹھونسی جاتی تھیں اور سر کٹوائے جاتے تھے۔ فرمایا کہ : ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع، عزت و آبرو