سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 297
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 265 لئے ہمیں اپنے جائزے بھی لینے ہوں گے کہ کس طرح ہم اس عظیم کام کو سر انجام دے سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی حالتوں کو دیکھنا ہو گا کہ کیا وہ اس معیار کی ہیں جو بڑے بڑے کام سر انجام دینے کے لئے ہونی چاہئیں اور جس کی اس وقت دین کو ضرورت ہے۔ اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدد گار کس طرح بن سکتے ہیں ں سکتے دین کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پھیلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے ہمیں تعلق باللہ میں بھی ترقی کرنی ہو گی، تقویٰ میں بھی ترقی کرنی ہو گی، اپنے علم کو بڑھانے کی کوشش بھی کرنی ہو گی، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پوری طرح کار بند رہنے کے لئے بھی کوشش کرنی ہو گی۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے اپنی حالتوں میں وہ تبدیلی پیدا کر لی ہے یا اس تبدیلی کے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مددگار بننے کے لئے ضروری ہے۔ اگر نہیں تو ہمارا نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ بے مقصد اور بے بنیاد ہے۔ ہم میں سے بعض کا تو یہ حال ہے کہ خدام الاحمدیہ کی ابتدائی عمر کے خدام مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر ہمارے بڑے قابل اصلاح ہیں تو ہمیں اس کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ جہاں یہ بات خوش کن ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ ہمارے بڑوں کے تقویٰ کے معیار وہ نہیں جو ہونے چاہئیں اور ہم اس کی اصلاح کس طرح کر سکتے ہیں وہاں قابلِ فکر اور قابلِ شرم ہے ان لوگوں کے لئے جو بجائے نوجوانوں کے لئے نمونہ بننے کے ان کو فکر مند کر رہے ہیں۔ پھر کس منہ سے ہم نعرہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مدد گار ہیں۔ پس ایسے لوگوں کے لئے بہت سوچنے کا مقام ہے۔ ہمیں بہت گہرائی میں جا کر اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدد گار کس طرح بن سکتے ہیں۔