سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 296

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 264 صرف نام کے انصار اللہ نہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ : انبیاء کو بھی جب مَنْ اَنْصَارِي إِلَى اللهِ (آل عمران: 53) یعنی کون ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے میں میرے مدد گار ہوں، کہنا پڑا تو اس لئے کہ عظیم اور بڑے کاموں کو چلانے کے لئے مدد گاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ قانون قدرت ہے کہ جو کام بہت سے لوگوں کے کرنے کا ہو اسے احسن رنگ میں کرنے کے لئے بہت سے لوگ چاہئیں اور ایک آدمی نہیں کر سکتا اور باوجود اس کے کہ انبیاء توکل کے اعلیٰ معیار پر ہوتے ہیں، تحمل اور مجاہدات کے اعلیٰ معیار پر ہوتے ہیں وہ اسی قانون قدرت کے مطابق مدد گاروں کو بلاتے ہیں۔“ (ماخوذاز براہین احمد یہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد 1 صفحه 59-60) پس آپ جو اپنے آپ کو انصار اللہ کہتے ہیں ، اس بات کو ہر وقت سامنے رکھیں کہ انصار اللہ تبھی کہلا سکتے ہیں جب اس زمانے کے امام، اللہ تعالیٰ کے فرستادے، مسیح موعود اور مہدی معہود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے صرف نام کے انصار اللہ نہ ہوں بلکہ اس روح کو سمجھتے ہوئے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ (آل عمران: 53) کا نعرہ لگائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں تکمیل اشاعت دین کا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپر د کیا ہے یعنی تبلیغ اسلام کا عظیم کام آپ کے سپر د کیا گیا ہے اور یہی کام کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد سے توقع کی ہے اور انصار اللہ کو سب سے بڑھ کر اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھنا چاہیے۔ پس ہمیں اپنے عہد بیعت کو نبھانے کے لئے، اپنے انصار اللہ کے عہد کو نبھانے کے لئے ، اس عظیم کام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مدد گار بننے کے لئے، اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اس عظیم کام کو سر انجام دینے کے لئے میدان میں اترنا ہو گا، تبھی ہم حقیقی انصار اللہ کہلا سکتے ہیں۔ صرف منہ سے دعویٰ کر دینا کہ ہم انصار اللہ ہیں، کافی نہیں ہے۔ اس کے