سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 294

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 262 جب خدا تعالیٰ کی خاطر کام کر رہے ہیں تو پھر کسی انسان کی تعریف یابد تعریفی کی پرواہ ہی نہیں کرنی چاہیے ملاقات کے اختتام پر ایک ناصر نے سوال کیا کہ ہماری نیشنل عاملہ کے ممبر ان اور اسی طرح لوکل سطح پر بھی جو عاملہ جو عاملہ ممبران ہیں ان کے ساتھ مختلف موقعوں پر انصار کا رویہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کی ذرا حوصلہ شکنی ہو جاتی ہے ان کو حوصلہ دینے کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اگر تو وہ ان ممبر ان کے لئے کام کر رہے ہیں تو پھر تو حوصلہ شکنی جائز ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی خاطر کام کر رہے ہیں تو حوصلہ شکنی نا جائز ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اول تو بچے تو نہیں ناں انصار ۔ ماشاء اللہ چالیس سال کی mature عمر کے بعد انصار میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی کسی ناصر کی طرف سے حوصلہ شکنی ہو بھی جاتی ہے، حوصلہ شکنی ہوتی ہے بعض بوڑھوں کی طرف سے جو بندہ پیسٹھ سال cross کرتا ہے ناں وہ بعض دفعہ سنا بھی دیتا ہے یا پھر بعض نوجوان انصار جو ہیں اُن کی طرف سے بھی ہو جاتی ہو لیکن عموماً بڑوں کی طرف سے ہوتی ہے تو اس میں آپ لوگ یہ سوچ رکھیں اور ہر ایک کو یہ بتائیں کہ ہم نے خدا کی خاطر کام کرنا ہے اور جب خدا تعالیٰ کی خاطر کام کرنا ہے تو پھر کسی دنیا والے کی حوصلہ شکنی یا لومة لائم کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی بچے تو نہیں آپ۔ ماشاء اللہ چالیس سال کی عمر گزار کے پورے mature ہو چکے ہیں اس میں تو حوصلہ شکنی ہو بھی جائے تو کیا ہے ؟ تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے رشتہ داروں کو بلایا تبلیغ کے لئے نبوت کے مقام ملنے کے بعد تو روٹی کھا کے سارے دوڑ گئے تھے۔ حوصلہ شکنی کر دی تھی تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار مان لی تھی ؟ انہوں نے اگلی دفعہ پھر تھوڑے عرصہ کے بعد دوبارہ دعوت کی دوبارہ پہلے اپنا پیغام