سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 288
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 256 کے شروع میں سوئس پبلک نے پبلک مقامات پر پردے کی پابندی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس حوالے سے مجلس عاملہ کے ایک ممبر نے اپنے خیال کا اظہار کیا کہ سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بنانے کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ پارٹی اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تو اس کا مطلب ہے کہ پولیٹیکل مانے لوگوں کی psyche کو دیکھ کے ایجنڈا بنایا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام پبلک میں اس قسم کی tendency ہے یا اسلام کے خلاف کچھ نہ کچھ ( تحفظات) ہیں جن کی وجہ سے پولیٹیکل پارٹیز بھی اپنے interest کو حاصل کرنے کے لئے ایجنڈا بناتی ہیں۔ کسی مسلمان کے اپنے عقائد کے اظہار پر سوئٹزرلینڈ میں قانونی پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پھر وہاںhuman rights یا تو نہ ہوا۔ ایک طرف سوئٹزرلینڈ کا یہ دعویٰ freedom of religion religious rights ہے کہ ہم بالکل آزاد ہیں اور ہم کسی influence میں نہیں آتے دوسری طرف جو freedom freedom of portrait of ہے freedom of expression ہے اور of religion their belief ہے وہ کوئی نہیں ہے۔ ٹارگٹس مقرر کرتے ہوئے ۔۔۔ حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مختلف شعبہ جات کے ٹارگٹس مقرر کرتے ہوئے ممبر ان عاملہ کو حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے مگر بلند نظر بھی ہونا ضروری ہے۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سوئس انصار کو خاص تاکید فرمائی کہ اسلام کی پر امن تعلیمات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے بھر پور سکیم بنائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم جماعت کا، اسلام کا تعارف اس طرح لوگوں میں کروائیں کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق جو reservationsہیں وہ دور ہو جائیں۔ بہترین پیغام لوگوں کو پہنچے، ان کو سمجھ آجائے کہ اسلام حقیقت میں کیا چیز ہے۔ سوئٹزر لینڈ کی ہر آبادی تک جماعتی طور پر تو پہنچتا ہی ہے ، انصار اللہ کو بھی