سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 282

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 250 کر دو اور جو لغویات اور فضولیات اور گناہ ہیں ان سے بچنا شروع کر دو تو تب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت حرکت میں آئے گی اور تم لوگ عذابوں سے بچ جاؤ گے۔ تو دنیا اس وقت مادیت میں ڈوبی ہوئی ہے وہ realise ہی نہیں کرتی کہ یہ سب کچھ کس وجہ سے ہو رہا ہے۔ باوجود اس کے ہم تنبیہ بھی کرتے رہتے ہیں اور پچھلے دنوں میں میں نے سر بر اہان کو بھی خط لکھے تھے ان کو بھی یہی بتایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے کہ اگر توجہ نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ کی آفات بھی آتی ہیں۔ اب بھی دیکھ لیں جب یہ Covid آیا یا کوئی بھی سونامی یا طوفان یا زلزلہ آتا ہے تو توجہ پیدا ہوتی ہے۔ تھوڑے عرصہ کے لئے اللہ اللہ کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کے مطابق کوئی اللہ اللہ کرتا ہے، کوئی رام رام کرتے ہے کوئی اپنا دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے لیکن اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ حقوق ادا کر سکیں ایک دوسرے کے بھی اور اللہ کا بھی۔ لیکن جب وہ ٹل جاتی ہے تو بات پھر واپس وہیں چلی جاتی ہے۔ یہی قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب عذاب آتا ہے، مشکل میں پھنستے ہو تو تم اللہ اللہ کرتے ہو ، دعا مانگتے ہو؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے ٹال دے تو ہم ٹھیک ہو جائیں گے اور جب ٹل جاتا ہے ، یہ بھی تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے قرآن کریم میں کہ جب عذاب ٹل جاتا ہے تو پھر تم اسی طرح دنیا داری میں مصروف ہو جاتے ہو۔ تو یہی حال ان دنیا داروں کا ہے۔ آخر ultimately یہی ہو گا اگر نہیں مانیں گے اور نہیں سمجھیں گے تو پھر تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ پہلی قومیں بھی تباہ ہوتی رہی ہیں اب بھی تباہ ہو رہی ہیں۔ آہستہ آہستہ اسی طرح مٹتی جائیں گی اور جو نیک لوگ ہوں گے وہ اپنی اصلاح کرتے چلے جائیں گے۔ تو بہر حال ہمارا کام یہ ہے کہ تنبیہ کرنا، پیغام کو پہنچانا، تبلیغ کرنا ، ہر ایک تک پہنچنا، باقی ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہم اپنا کام سنجیدگی سے کرتے رہیں تو یہی ہمارے فرض پورے ہو جاتے ہیں اور پھر دعا