سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 281

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 249 رکھتے ہوئے پھر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ آپ کی ساری تربیتی اور اصلاحی کمیٹیوں کا کام ہے کہ ان کا حل تلاش کریں۔ لیکن ساتھ ہی سب سے اہم کام یہی ہے کہ گھروں کے ماحول ٹھیک کریں۔ اور گھروں میں یہ چیزیں پیدا کریں اور پھر جب پاکستان سے رشتے لاتے ہیں تو وہاں سے بھی چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو ، سوچ سمجھ کر لایا کریں، صرف جلد بازی سے کام نہ لیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ دعا کر کے رشتے کرو ، تو دعا کر کے کرنے چاہئیں، ہاں اس کے بعد بعض اوقات مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن وہ اکا دکا ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر اگر ہم صحیح کوشش کریں تو یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے پھر ایک دوست نے سوال کیا کہ پیارے حضور کیا وجہ ہے کہ عذاب آنے کے باوجود دنیا کی توجہ امام الزمان کی طرف مبذول نہیں ہو رہی جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ما كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پھر ؟ اس کے بعد کیا ہوا؟ جو پرانے انبیاء ، رسول آئے تو ان کی قوموں کو توجہ پیدا ہو گئی تھی۔ عذابوں سے تباہ ہی ہوئے ناں۔ سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو آخری نبی تھے۔ آپؐ کے جو عذاب کی شکل تھی وہ جنگوں کی صورت میں تھی۔ یہاں پانی کا عذاب ، آگ کا عذاب یا دوسرے عذاب نہیں آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ جنگ جو ہے وہی ان کے لئے عذاب تھی۔ اس میں مسلمان بھی شہید ہوتے تھے لیکن اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ پھر بہر حال ایک وقت آیا جب لوگوں نے realise کر لیا۔ تو اب بھی یہی حالت ہے۔ دنیا داری کی طرف پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ تم اس طرف توجہ نہیں کرو گے تو عذاب بڑھتے رہیں گے اور تباہ ہو جاؤ گے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تم ضرور اسلام کو اور احمدیت کو مانو۔ ٹالنے کے لئے اگر اللہ تعالیٰ کا حق اور بندوں کے حق ادا کرنے شروع