سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 280

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 248 عہد کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اس کے باوجود ہم اس عہد پر عمل نہیں کرتے اور توڑ دیتے ہیں اور پھر یہی دنیاوی خواہشات ہی بڑھتی ہیں، صبر اور حوصلہ لڑکیوں میں بھی کم ہو گیا ہے اور لڑکوں میں بھی۔ یہ بھی میں نے دیکھا ہے۔ اس لئے یہ الزام جو دیا جاتا ہے اسلام کو کہ arrange marriage کی وجہ سے ہمارے رشتے صحیح طرح match نہیں ملائے گئے ، اس لئے ہمارے رشتے ٹوٹ گئے ، یہ بھی غلط ہے۔ دنیا میں مجموعی طور پر یہی رجحان پیدا ہو رہا ہے اور دنیا داری کا ( رجحان) کیونکہ ہمارے معاشرے میں (بھی) آرہا ہے اس لئے ہمیں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک بات یہ ہے کہ رشتے ہوئے اور ٹوٹ گئے ، دوسری بات یہ ہے کہ لڑکیوں کو اچھے رشتے نہیں ملتے ، عائلی مسائل ہیں۔ اگر لڑکوں کی تربیت صحیح کریں، انصار بھی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں، خدام اپنے بھائیوں کی صحیح تربیت کریں اور ان کو بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو۔ اور (دین) کو دیکھو اور لجنہ صحیح تربیت کرے اور لڑکی دین پر قائم رہنے والی ہو تو جو دین کو ترجیح دیتے ہوئے ہونے والے رشتے ہوں گے وہ پھر کامیاب بھی ہوں گے اور ہوتے ہیں۔ جو دنیا داری کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں ان میں پھر دراڑیں بھی پڑتی ہیں۔ یہ ایک لمبا اور مستقل process ہے ، تمام تربیتی اور اصلاحی شعبوں کا۔ اس پر کوشش کرتے رہیں اور اسی طرح انصار اپنے گھروں میں کوشش کرتے رہیں۔ صرف جماعتی نظام پر ہی نہ چھوڑیں کہ جماعتی نظام ہی یہ کرے بلکہ انصار کی تربیت کیا کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کیا کریں۔ بعض جگہ الا ما شاء اللہ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ تربیت کے باوجود لڑکی پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے یا بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ لڑکوں پر بھی ظلم ہو جاتا ہے۔ لڑکیاں یہاں باہر کے ملکوں میں آتی ہیں، رشتہ کر کے یا شادی کر کے اور آنے کے بعد کہتی ہیں کہ ہم نے رشتہ نہیں کرنا اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح پہنچ جائیں غیر ملک میں اور وہاں جاکر رشتہ توڑ دیں۔ ایسے معاملات بھی آتے ہیں۔ سارے حقائق کو ہمیں سامنے رکھنا چاہیے اور اس کو سامنے