سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 274

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 242 بعض سست ہوتے ہیں۔ ان کی سستیوں کو اسی طرح دور کیا جا سکتا ہے کہ ان کو توجہ دلائی جاتی رہے اور بار بار ان کو توجہ دلائی جاتی رہے پیار سے توجہ دلائی جاتی رہے ان کو یہ احساس نہ پیدا ہو کہ ہم پر کوئی سختی کر رہا ہے یا ہم جائیں گے تو ہمارے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے گا۔ اگر پیار سے محبت سے سمجھاتے رہیں، چاہے وہ انصار بھی ہو گئے ہوں تو وہ آپ کے پروگراموں میں حصہ لیں گے۔ ہر طرف سے ایک مشترکہ اور ایک ٹھوس کوشش ہو گی تو پھر تربیت کی طرف ۔۔۔۔ توجہ پیدا ہو گی دوسرے یہ کہ یہی انصار ہیں جن کی عورتیں بھی ہیں ان کے بچے بھی ہیں۔ اگر شعبہ تربیت فعال ہو گا۔ شعبہ تربیت کا کام ہے کہ ان کو توجہ دلائے ، ان کی تربیت کرے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بھی تربیت کر سکیں۔ اسی طرح خدام الاحمدیہ کا کام ہے، لجنہ کا کام ہے کہ وہ بھی اُس خاندان کے اپنی اپنی مجلس کے ممبران کو توجہ دلاتے رہیں۔ جب خاندان میں ایک concerted effort ہو جائے گی، ہر طرف سے ایک مشترکہ اور ایک ٹھوس کوشش ہو گی تو پھر تربیت کی طرف انصار کو بھی توجہ پیدا ہو گی، لجنہ کو بھی ہو گی، خدام اور انصار اور اطفال کو بھی ہو گی۔ تو ایسے لوگ جو بالکل ہی نہیں آتے، پھر اس فیملی کے ساتھ تربیت کے لئے انصار خدام اور لجنہ اور جماعتی نظام سب کو مل کے توجہ کرنی چاہیے اور ان کو توجہ دلانی چاہیے لیکن یہی ہے کہ نصیحت کرتے جاؤ، کرتے جاؤ اور ہر طبقے کا احمدی اور جس جس مجلس کا وہ ممبر ہے اس مجلس کے ذریعہ سے بھی اس خاندان میں ان کو توجہ دلائی جائے۔ ہو سکتا ہے بچہ باپ کی تربیت کا باعث بن جائے، بیوی خاوند کی تربیت کا باعث بن جائے اور پھر اس طرح انصار اللہ میں بھی آپ کو تربیت کے جو ایشوز ہیں وہ اتنے نہیں اٹھیں گے اور پھر خود انصار کو توجہ دلائیں کہ اگر تم توجہ نہیں دو گے تو تمہارے بچے اور تمہاری بیوی بھی جماعت