سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 273
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 241 تو انصار اللہ کو یہ بتانا ہو گا کہ تم لوگ اپنے عہد پہ پورا اسی وقت اترو گے جب ہر نیکی کو انصاراللہ یہ کہ تم کرنے کی کوشش کرو گے اور نیکیوں کو کرنے کے لئے ایک بہت بڑا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نظام وصیت کو جاری کر کے فرمایا ہے جس میں روحانی معیار کو اونچا کرنا بھی ہے اور مالی قربانی بھی ہے اور پھر اس کے ساتھ خلافت کے ساتھ وفا کا تعلق بھی ہے۔ تو جب آپ اس طرح سمجھائیں گے تو ان کو سمجھ آئے گی، نہیں تو پھر انسان تو ڈھیلا ہی رہتا ہے۔ انسان کہے گا میں تو نیک نہیں، میں تو متقی نہیں، میں نیک کام کس طرح کر سکتا ہوں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اسی کام کے کرنے کے لئے تو وصیت کا نظام جاری ہوا ہے کہ تم اس میں شامل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہیں نیکی اور تقویٰ کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔ ان کو بتائیں کہ تم احمدی ہو اور احمدی کے کچھ فرائض ہیں اور کچھ اس کی ڈیوٹیز ہیں ایک اور ناصر نے پوچھا کہ پیارے حضور بعض انصار جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتے اور مجلس کے کاموں میں بھی شامل نہیں ہوتے۔ ان کو بار بار توجہ دلائی جاتی ہے۔ تو اس سلسلہ میں ہم کون سالائحہ عمل اختیار کریں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہی حکم ہے بار بار توجہ دلانا۔ اور بار بار توجہ ہی دلاتے رہنا چاہیے۔ ان کو بتائیں کہ تم احمدی ہو اور احمدی کے کچھ فرائض ہیں اور کچھ اس کی ڈیوٹیز ہیں جس پر اس نے عمل کرنا ہے تو یہی حکم ہے ہمیں۔ ذکر کا حکم ہے ہمیں۔ نصیحت کرنے کا حکم ہے ہمیں۔ بار بار توجہ دلانے کا ہمیں حکم ہے اور یہی حکم اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا تو اسی حکم پہ اب ہم نے چلنا ہے اور نصیحت اسی لئے کی جاتی ہے اور بار بار کی جاتی ہے تا کہ توجہ پیدا ہوتی رہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی طرف سے کوشش کرتے رہنا اور توجہ دلاتے رہنا۔ چھوڑنا نہیں جب تک کہ کوئی انسان یہ کہتا ہے کہ میں احمدی ہوں اور جماعت میں شامل ہوں۔ ٹھیک ہے ؟