سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 272

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 240 شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم متقی نہیں ہیں اس لئے ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔ پیارے آقا، اس سلسلہ میں ہمار الائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اس بارے میں میں نے جو شروع میں جبکہ وصیت کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی، اس وقت بھی میں نے اس بارے میں یہی کہا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ہم تو متقی نہیں ، ہم نیک نہیں، ہم وصیت کس طرح کریں، ہم تو وصیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتے تو اس وقت میں نے یہی بتایا تھا، اس وقت بھی اور ہمیشہ یہی کہتا ہوں، کئی مجالس میں کہہ چکا ہوں، پہلے تو یہ بات ہے کہ رسالہ الوصیت پڑھیں۔ جب ایک انسان رسالہ الوصیت پڑھتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ مجھے کس معیار کا احمدی ہونا چاہیے۔ پھر اس کے بعد جب وہ وصیت کرتا ہے تو اس کے بعد وہ کوشش کرتا ہے کہ میں اس معیار پہ پہنچوں۔ یہ کہہ دینا کہ میں اس معیار کا نہیں ہوں اس لئے وصیت نہیں کروں گا تو پھر ساری عمر نہ وہ کوشش کرے گا نہ وہ کبھی اچھا، نیک اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ تو یہ تو ایک ذریعہ ہے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تم لوگ وصیت بھی کرو گے تو تم لوگوں کی اس طرف توجہ پیدا ہو گی، اور وصیت کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلافت کے ساتھ ایک تعلق جوڑا ہے۔ جب انسان وصیت کرتا ہے اور اس کے لئے پھر نیکیاں اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، نیکیاں اپنانے کی کوشش کرتا ہے، نیکیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کا معیار ، روحانی معیار بھی بڑھتا ہے اور پھر اس کا خلافت کے ساتھ تعلق اور وفا کا تعلق بھی بڑھتا ہے اور پھر وہ ایک سچا اور پکا احمدی ہوتا ہے۔ نہیں تو یہ سادہ ایک عہد ہے کہ میں دین کو دنیا پہ مقدم رکھوں گا، میں اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو قربان کرنے کے لئے تیار رہوں گا۔ وہ اپنے مال کو تھوڑا سا مال ہے اس کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے بڑھانے کا ذریعہ ، طریقہ بتایا ہے اس کو اپنانے کے لئے تیار نہیں تو پھر وہ کس طرح عہد کر سکتا ہے، کھڑا ہو کے انصار اللہ کا عہد دہرا دیتا ہے میں یہ کر دوں گا میں وہ کر دوں گا۔