سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 266

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 234 بڑی اچھی بات ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس تمام کام کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ اب یہ دیکھنے والی بات ہے کہ نتیجہ کیا ہے؟ آیا آپ نے جو پروگرام بنایا تھا، اس پر لوگ عمل بھی کر رہے ہیں کہ نہیں اور اگر عمل کر رہے ہیں تو کتنے فیصد عمل کر رہے ہیں۔ کتنے گھر ہیں جو ان ہدایات پر عمل کر رہے ہیں اور پھر آپ کو ان کا فیڈ بیک بھی مل رہا ہے۔ صرف یہ سوچ لینا کہ ہم نے یہ فیصلے کئے ہیں اور لوگ ان پر عمل کر رہے ہوں گے ، اس سے تو کچھ نہیں ہو گا۔ فیڈ بیک بھی لینا چاہیے۔ تربیت کے تو بہت مسائل ہیں، رشتہ ناطہ کے مسائل ہیں۔ ان سب پر کام کریں۔ پھر ذیلی تنظیموں کے شعبہ تربیت سے coordinate کر کے ایسا پلان بنائیں، جس سے جماعت کا ہر فرد involve ہو جائے اور بہتر رنگ میں تربیت ہو سکے۔ سکیم تو بن گئی، مجھے بتائیں کہ فائدہ کتنوں نے اٹھایا ایک سیکر ٹری صاحب کے سکیم پیش کرنے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا: یہ جو اتنی بڑی سکیم بنائی ہے، اس سے کتنے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے؟ ڈیٹا بتائیں۔ اس پر سیکر ٹری صاحب نے عرض کیا کہ یہ ڈیٹا نہیں ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مجھے تو یہ ڈیٹا چاہیے، نتیجہ چاہیے۔ سکیم تو بن گئی ، مجھے بتائیں کہ فائدہ کتنوں نے اٹھایا۔ وہ figure آپ کے پاس نہیں ہیں۔ وہ figure مجھے چاہیے تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشہ ہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ یہ exact ڈیٹا یہ exact ڈیٹا نہیں ہے تو پھر آپ نے کام کیا کرنا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مختلف دورہ جات کی رپورٹس ہیں، آپ نکال کر دیکھیں، ان میں مربیان کے لئے بھی اور عاملہ کے ممبران کے لئے بھی ہدایات ہیں۔ جنہوں نے عمل کرنا ہوتا ہے، وہیں سے دیکھ لیتے ہیں۔ جنہوں نے عمل کرنا ہوتا ہے، وہ خطبہ سنتے ہیں اور خطبہ میں سے کوئی پوائنٹ نکال لیتے ہیں۔ چاہے خطبہ صحابہ کی سیرت پر بیان ہو رہا ہو ، وہیں سے پوائنٹ نکال لیتے ہیں کہ یہ ہمارا کام ہے، یہ ہم نے کرنا ہے۔ تو جس نے نکات نکالنے ہوتے ہیں ، وہ نکال کر کام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ امیر کا کام