سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 265

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 233 اس پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ ہم سب سے زیادہ زور اس بات پر دے رہے ہیں کہ اصلاحی کمیٹی فعال ہو جائے۔ پچھلے سال سے ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہ تو اس شعبہ کا صرف ایک حصہ ہے۔ آپ کے اتنے بگڑے ہوئے لوگ ہیں کہ صرف اصلاحی کمیٹی پر زور دینا ہے ، باقی کام نہیں کرنے؟ تربیت کا تو یہ بھی کام ہے کہ جائزہ لیں اور لوگوں کو توجہ دلائیں اور آجکل تو ویسے ہی سب کی توجہ ہوئی ہوئی ہے۔ گھر میں بیٹھے ہیں تو جائزہ لیں کہ گھروں میں نماز با جماعت کا انتظام ہو رہا ہے کہ نہیں ، حالات ٹھیک ہیں تو دیکھیں کہ مسجد یا نماز سینٹر میں نماز باجماعت کا انتظام ہو رہا ہے کہ نہیں۔ گھروں میں قرآن کریم پڑھنے کا رواج ہے کہ نہیں، بیوی بچوں سب کی نگرانی ہو رہی ہے۔ مرد عور تیں اور بچے سب قرآن کریم پڑھتے ہیں کہ نہیں، نمازوں میں باقاعدگی ہے کہ نہیں۔ رشتہ ناطہ کے مسائل ہیں، ان کو بھی گائیڈ کرنا ہے کہ کس طرح ہم نے حل کرنے ہیں، احمدی بچوں لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت کرنی ہے کہ آپس میں رشتے کریں۔ پھر جھگڑے ہیں، ان سے کیسے بچنا ہے۔ یہاں کی اس معاشرے کی جو برائیاں ہیں ، مغربی معاشرے کی برائیاں ہیں، ان سے کیسے بچنا ہے۔ آپ لوگوں نے یہ ساری سکیم بنائی ہوئی ہے ؟ اس پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ گذشتہ سال سے ہم نے اصلاح احوال کا پروگرام شروع کیا تھا۔ بچوں اور والدین میں باہمی دوری کو ختم کرنے کا پروگرام تھا۔ families کو سوالات دیے جاتے تھے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں، تاکہ وہ کھل کر آپس میں بات چیت کر سکیں۔ والدین اور بچوں کی دوری ختم کرنے کی کوشش تھی اور ہر گھر کو یہ ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ کم از کم روزانہ ایک کھانا سب اکٹھے مل کر کھائیں۔ پھر سوشل میڈیا کے حوالہ سے رہنمائی دیں۔ بچوں کو مصروف رکھیں تاکہ سوشل میڈیا پر کم بیٹھیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اچھی بات ہے۔ اس سارے کام کو مزید expand کرنا چاہیے۔ یہ تو ہر سطح پر کام ہونا چاہیے۔ ہر گھر کی سطح پر آپ یہ کام کر رہے ہیں تو