سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 256
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 224 التجا خدا کے سامنے لائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا اور اس کے دل میں تبدیلی ہو گی۔ خدا تعالیٰ سے ناامید مت ہو۔ بر کریماں کا رہا دشوار نیست۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 45) کہ نیک لوگوں کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہو تا۔ میرے دوست سن رکھیں کہ وہ میری باتوں کو ضائع نہ کریں فرماتے ہیں: پھر بڑے درد سے نصیحت کرتے ہوئے اور آخرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ پس میں پھر پکار کر کہتا ہوں اور میرے دوست سن رکھیں کہ وہ میری باتوں کو ضائع نہ کریں اور ان کو صرف ایک قصہ گویا داستان کی کہانیوں ہی کا رنگ نہ دیں بلکہ میں نے یہ ساری باتیں نہایت دل سوزی اور سچی ہمدردی سے جو فطرتاً میری روح میں ہے کی ہیں۔ ان کو گوش دل سے سنو اور ان پر عمل کرو۔۔۔ ہاں خوب یاد رکھو اور اس کو سچ سمجھو کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔ پس اگر ہم عمدہ حالت میں یہاں سے کوچ کرتے ہیں تو ہمارے لئے مبار کی اور خوشی ہے ور نہ خطر ناک حالت ہے۔“ انصار کی عمر تو ایسی ہوتی ہے کہ ان کو تو بڑی فکر رہنی چاہیے۔ فرمایا: دو یاد رکھو کہ جب انسان بری حالت میں جاتا ہے تو مکان بعید اس کے لئے یہیں سے شروع ہو جاتا ہے یعنی نزع کی حالت ہی سے اس میں تغیر شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْلِي ( :75) یعنی جو شخص مجرم بن کر آوے گا اس کے لئے ایک جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ یہ کیسی صاف بات ہے۔ اصل لذت زندگی کی راحت اور خوشی ہی میں ہے۔ “ إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى ۔ جو مجرم بن کے آئے گا اس کے لئے ایک جہنم ہے اس میں نہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔“ فرمایا کہ کیسی صاف بات ہے اصل لذت زندگی کی راحت اور خوشی ہی میں ہے۔ بلکہ اسی حالت میں وہ زندہ متصور ہوتا ہے جبکہ ہر طرح کے امن و آرام میں ہو۔ اگر وہ