سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 255
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 223 جب بلا سر پر آپڑے تو اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہیے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے۔ اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملا دیں۔ ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بد کاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔ عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (الدھر: 9) یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔ قصہ مختصر دعا سے ، تو بہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 208) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجا تر بیت پائی پھر فرمایا (انصار اللہ کے لئے خاص طور پر): راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجا تر بیت پائی۔ وہ پہلے کیا تھے ؟ ایک کسان کی تخم ریزی کی طرح تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آب پاشی کی۔ آپؐ نے ان کے لئے دعائیں کیں۔ بیچ صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آب پاشی سے پھل عمدہ نکلا۔ جس طرح حضور علیہ السلام چلتے اسی طرح وہ چلتے ۔ وہ دن کا یارات کا انتظار نہ کرتے تھے۔ تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو تہجد میں اٹھو۔ دعا کرو، دل کو درست کرو ۔ کمزوریوں کو چھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ۔ یقین رکھو کہ جو اس نصیحت کو در دبنائے گا اور عملی طور سے دعا کرے گا اور عملی طور پر