سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 254
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 222 اگر اللہ تعالیٰ کا جوش غیرت میں نہ ہوتا اور اِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ اس کا وعدہ صادق نہ ہوتا تو یقیناً سمجھ لو کہ اسلام آج دنیا سے اٹھ جاتا۔ اور اس کا نام و نشان تک مٹ جاتا مگر نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کا پوشیدہ ہاتھ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔“ اسلام کی حفاظت کر رہا ہے۔ فرمایا: 66 مجھے افسوس اور رنج اس امر کا ہوتا ہے کہ لوگ مسلمان کہلا کر ناطے بیاہ کے برابر بھی تو اسلام کا فکر نہیں کرتے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 72-73) اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے اپنے اخلاق کو عمدہ اور اعلیٰ معیار پر لے جانے کی نصیحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں نہیں۔ اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے۔ پس یا درکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 140) فرمایا کہ: بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔ خدا ٹھگا نہیں جا جا سکتا۔ مبارک ہیں وہ وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پروانہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 76) خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں تو بہ اور عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الہی آکر توبہ کا دروازہ بند کر دے تو بہ کرو۔ جب کہ دنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔