سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 251
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 219 طرح مبتلا نہ ہو گا۔ اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے اِن اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ “ (الحجرات:14)(ملفوظات جلد اول صفحہ 35-36) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو زیادہ متقی ہے۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف سے رجوع کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ آپ فرماتے ہیں: سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نورِ الہی سے دیکھتا ہے۔ صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔“ فرمایا: ”اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو۔ تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو۔ سوچو۔ تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار سا طبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لوگے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران: 192) تمہارے دل سے نکلے گا اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں۔“ جو تم نے بنایا ہے یہ جھوٹ نہیں ہے، بے فائدہ نہیں بنایا۔ بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 66) پس تقویٰ ہو گا تو دینی علوم کے ساتھ دنیوی علوم کے بھی راستے کھلیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے بھی راستے دکھائے گا۔ ان کا بھی ادراک حاصل ہو گا اور اس سے پھر علم و معرفت میں بھی ترقی ہو گی۔