سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 250

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 218 جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔“ فرمایا: 66 میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ ڈر ہے کہ یہ حقارت بیچ کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔“ یہ بڑی قابل غور بات ہے۔ فرمایا کہ: دوا بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔“ یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بڑوں سے مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں، بڑی عزت کرتے ہیں، بڑا احترام کرتے ہیں۔ فرمایا: لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔“ اصل بڑائی تو یہ ہے کہ کمزور اور کم طاقت والا جو ہے اس کی بات کو سنو ، غریب کی بات کو سنو، مسکین کی بات کو سنو۔ فرمایا کہ یہی جڑ ہے عاجزی کی اور یہی بنیاد ہے عاجزی کی۔ اس پہ قائم ہو گے تو تبھی کہہ سکتے ہیں کہ تقویٰ پیدا ہوا ہے اور اس کے لئے آپؐ نے فرمایا کہ غریب کی بات سنو۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔“ خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے ” خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات : 12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔ یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی