سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 252

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 220 پاک عقل آسمان سے آتی ہے اور اپنے ہمراہ ایک نور لاتی ہے راستبازی اور تقویٰ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ”ذرا سوچو اور سمجھو خدا کے واسطے عقل سے کام لو اور اس لئے کہ عقل میں جو دت اور ذہانت پیدا ہو راستباز اور متقی بنو۔ پاک عقل آسمان سے آتی ہے اور اپنے ہمراہ ایک نور لاتی ہے لیکن وہ جو ہر قابل کی تلاش میں رہتی ہے۔ اس پاک سلسلہ کا قانون وہی قانون ہے جو ہم جسمانی قانون میں دیکھتے ہیں۔ بارش آسمان سے پڑتی ہے لیکن کوئی جگہ اس بارش سے گلزار ہوتی ہے اور سے پڑتی سے گلزار کہیں کانٹے اور جھاڑیاں ہی اگتی ہیں اور کہیں وہی قطرہ بارش سمندر کی تہہ میں جا کر ایک گوہر شہوار بنتا ہے۔ بقول کسے ۔ در باغ لاله روید در شوره بوم خس کہ وہ (بارش) باغ میں تو پھول اگاتی ہے اور بنجر میں گھاس پھوس اگاتی ہے۔“ پھر اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اگر زمین قابل نہیں ہوتی تو بارش کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ الٹاضرر اور نقصان ہوتا ہے۔ اسی لئے آسمانی نور اترا ہے اور وہ دلوں کو روشن کرنا چاہتا ہے۔ اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہو جاؤ تا ایسا نہ ہو کہ بارش کی طرح کہ جو زمین جوہر قابل نہیں رکھتی۔ جس میں خاصیت ہی نہیں جو بنجر زمین ہے۔ ”وہ اس کو ضائع کر دیتی ہے۔ تم بھی باوجو د نور کی موجودگی کے تاریکی میں چلو۔“ بارش تو ہو رہی ہے لیکن اگر زمین اچھی نہیں تو تاریکی میں چلو گے۔ نور موجود ہے، نور سے فائدہ نہیں اٹھا سکو گے ۔ اور ٹھو کر کھا کر اندھے کنوئیں میں گر کر ہلاک ہو جاؤ۔ اللہ تعالی مادر مہربان سے بھی بڑھ کر مہربان ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق ضائع ہو۔ وہ ہدایت اور روشنی کی راہیں تم پر کھولتا ہے مگر تم ان پر قدم مارنے کے لئے عقل اور تزکیہ نفوس سے کام لو۔ جیسے زمین کہ جب تک ہل چلا کر تیار نہیں کی جاتی تخم ریزی اس میں نہیں ہوتی اسی طرح جب تک مجاہدہ اور ریاضت سے تزکیہ نفوس نہیں ہو تا پاک عقل آسمان سے اتر نہیں سکتی۔“