سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 249
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 217 پھر کامیابیاں حاصل ہو جائیں گی۔ فرمایا: پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پاچکے ہیں۔ اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقویٰ کی تعلیم دے کر ایک ایسی کتاب ہم کو عطا کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے۔ سو ہماری جماعت یہ غم کل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے۔“ فرمایا: سو ہماری جماعت یہ غم یعنی تقویٰ حاصل کرنے کا غم ، اللہ تعالیٰ سے ملنے کا غم ، فکر ، (غم سے مراد ہے فکر)، کل دُنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے۔“ کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔ پس آپ علیہ السلام ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف اس میں توجہ دلا رہے ہیں اور ہم یہ خود ہی اپنے جائزے لے سکتے ہیں۔ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ تقویٰ والے کون لوگ ہیں اور جس کے دل میں تقویٰ ہو اسے اپنی زندگی کس طرح بسر کرنی چاہیے ، فرماتے ہیں: اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔ یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔“ ہوتا ہے۔ فرمایا: عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔“ 66 66 نخوت یا تکبر اور غرور جو ہے یہ غضب سے ، غصہ میں جو انسان آتا ہے اس وقت پیدا اور ایسا ہی کبھی خود غضب ، عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہو گا