سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 248
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 216 کی فرمایا: ”لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ راہوں پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 108-109) قوی کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے پھر تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کرنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوی عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیئے گئے ان فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیئے گئے ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے۔ “ ان کو ٹھیک طرح صحیح موقع پر استعمال کرنا اور جائز اس کا استعمال کرنا یہی اس کی نشو و نما ہوتی ہے۔ ” اسی لئے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی۔“ انسان کے مرد عورت کے تعلقات کے جو قوی ہیں ان کو ضائع کرنے کے لئے نہیں کہا یا آنکھ کو نکالنے کے لئے نہیں کہا کہ بد نظری نہ کرو۔ بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کروایا جیسے فرمایا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون: 2) اور ایسے ہی یہاں بھی فرمایا۔ متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرہ: 6) یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں۔ ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ نماز ڈگمگاتی ہے پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔ خدا کے دیئے ہوئے سے دیتے ہیں۔ باوجود خطرات نفس بلا سوچے گذشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جا رہی ہے۔“ 66 ہماری جماعت تقویٰ کا غم گل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے پس یہ یقین پیدا کرنا ہو گا جو آگے تک لے جاتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہو گا۔ ایمان بالغیب کرنا ہو گا۔ اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔“